اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق كوباني یا عین العرب علاقے کے سربراہ انور مسلم نے کہا کہ داعش کے دہشت گرد كوباني شہر کے مرکز کی جانب پیشرفت کی کوشش کر رہے تھے تاہم انہیں کرد عوام کے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور اس کارروائی میں اس کے بہت سے دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
انہوں نے کرد پيشمرگہ فوج کے كوباني پہنچنے سے متعلق خبروں کے بارے میں کہا کہ ابھی تک کرد پيشمرگہ کا کوئی بھی فوجی كوباني نہیں پہنچا ہے تاہم اس بارے میں مذاکرات جاری ہیں۔ كوباني شہر کے اس عہدیدار نے بتایا کہ ترکی کی جانب سے كوباني میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ابھی تک کوئی حملہ نہیں کیا گیا اور داعش کے دہشت گرد كوباني پر مارٹر گولوں سے حملے کر رہے ہیں۔
كوباني کے ایک اور مقامی عہدیدار احمد شیخو نے بھی ترک حکومت کی پالیسیوں کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اردوغان کی جانب سے داعش کی حمایت کی وجہ سے داعش کے دہشت گرد شدید جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں اور ان دہشت گردوں میں سے بہت کا علاج ترکی کے اسپتالوں میں ہو رہا ہے ۔
احمد شیخو نے كوباني میں جاری جنگ کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کہا کہ كوباني کے مشرقی اور جنوبی حصے میں شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں اور شہر کے اندر تک جھڑپوں کا دائرہ پھیل گیا ہے۔
.......